ابر
43 Misre
- جوں نخل ماتم ابر سے مطلب نہیں مجھے
- پر طاؤس گویا برق ابر چشم گریاں ہے
- کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- مژگاں خلیدۂ رگ ابر بہار ہے
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہر بار ہنوز
- دھویں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- ہوا نے ابر سے کی موسم گل میں نمد بانی
- اگر ابر سیہ مست از سوے کہسار ہو پیدا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- سیہ مستی ہے اہل خاک کو ابر بہاری سے
- ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھلنا
- خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- پیتا ہوں روز ابر و شب ماہتاب میں
- دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کرو
- گزرے ہے آبلہ پا ابر گہربار ہنوز
- ابر بہار خم کدہ کس کے دماغ کا؟
- ہے ابر پنبہ روزن دیوار باغ کا
- ہے قلم میری ابر گوہر بار
- فرق ستیزہ مست کو ابر تگرگ بار ایک
- ابر دست کرم کلب علی خاں سے مدام
- رہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس
- کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیر
- در حضور پر اے ابر بار بار برس
- ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- ہوا میں بوند کو ابر تگرگ بار گرہ
- حسرت جلوۂ ساقی ہے کہ ہر پارۂ ابر
- دشمن حسرت عاشق ہے رگ ابر سیاہ
- مستی ابر سے گلچین طرب ہے حسرت
- سرنوشت دو جہاں ابر بیک سطر غبار
- سبحہ گرواں ہے اسی کی کف امید کا ابر
- ابر نیساں سے ملے موج گہر کا تاواں
- ابر میخانہ کریں ساغر خرشید شکار
- ابر بدلی اور بجلی برق ہے