اب
88 Misre
- اب طائر پریدہ رنگ حنا کہوں
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- دیکھوں اب مرگئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- اب چار سوے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- اب کے بہار کا یونہی گزرا برس تمام
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- اسدؔ خاک در میخانہ اب سر پر اڑاتا ہوں
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- نہیں ریزش عرق کی اب اسے ذوبان اعضا ہے
- اب علو پایۂ منبر کھلا
- اب عیار آبروے زر کھلا
- اب مآل سعی اسکندر کھلا
- اب فریب طغرل و سنجر کھلا
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- اب اس کو کہتے ہیں اہل سخن سخن تکیہ
- شعلۂ جوالہ ہر یک حلقۂ گرد اب تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- اب کسے رہنما کرے کوئی
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھوں اب مر گئے پر کون اٹھاتا ہے مجھے
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- نئے فتنوں میں اب چرخ کہن کی آزمائش ہے
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی
- اب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
- عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
- اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- اب طائر پر بریدۂ رنگ حنا کہوں
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ
- غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- اب وہ رعنائی خیال کہاں
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- اب کسی بات پر نہیں آتی
- پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
- وحشتؔ و شیفتہؔ اب مرثیہ کہویں شاید
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
- ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے
- کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
- رشک آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
- اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
- اب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہے
- کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
- کچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار
- ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلام
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- بھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند
- مگر اب ذوق بذلہ سنجی کو
- پاس ہے اب سواد اعظم نثر
- ہے مقرر جو اب پئے تعلیم
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- اب تو باندھا ہے دیر میں احرام
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- اور پھر اب کہ ضعف پیری سے
- اب شکست توبہ میخواروں کو فتح الباب ہے
- ہے اب کے شب قدر و دوالی باہم
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے
- اعضا شکنی ہو چکی اب جاں شکنی ہے
- کیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی