آیا
85 Misre
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروے کار
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- گراں جانی سبک ساز و تماشا بے دماغ آیا
- دہان تنگ مجھے کس کا یاد آیا تھا
- ہاتھ آیا زخم تیغ یار سا پہلو نشیں
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- عارض گل دیکھ روے یار یاد آیا اسدؔ
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- آیا نہ بیابان طلب گام زباں تک
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- ہاتھ آیا نہیں یک دانۂ انگور ہنوز
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- دل از اضطراب آسودہ طاعت گاہ داغ آیا
- جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- نالہ برخود غلط شوخی تاثیر آیا
- محمل دشت بہ دوش رم نخچیر آیا
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- عرض شبنم سے چمن آئینہ تعمیر آیا
- کہ کلہ گوشہ بہ پرواز پر تیر آیا
- بے تکلف بہ سجود خم شمشیر آیا
- پر طاؤس تماشا نظر آیا ہے مجھے
- آئنہ بیضۂ طوطی نظر آیا ہے مجھے
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- آیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار حیف
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- جنوں گرم انتظار و نالہ بیتابی کمند آیا
- سویدا تا بلب زنجیریٔ دود سپند آیا
- تماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا
- خرام ناز برق خرمن سعیٔ سپند آیا
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
- بیچارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- کشایش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا
- خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
- برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا
- باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
- ایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں
- مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسے
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- مجھے اب دیکھ کر ابر شفق آلودہ یاد آیا
- زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- دل جگر تشنۂ فریاد آیا
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- پھر وہ نیرنگ نظر یاد آیا
- نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- دل گم گشتہ مگر یاد آیا
- دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
- سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
- جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
- پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
- ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- جلوۂ مدعا نظر آیا
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- لے کے آیا ہے عید کا پیغام
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- خسرو انجم کے آیا صرف میں
- صبح آیا جانب مشرق نظر
- پہلے دارا کا نکل آیا ہے نام
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- یاد آیا جو وہ کہنا کہ نہیں واہ غلط