آہنگ
15 Misre
- تار شمع آہنگ مضراب پر پروانہ تھا
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- کھینچتا ہے آج نالے خارج از آہنگ دل
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- بے دلی ہاے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- مقدم سیلاب سے دل کیا نشاط آہنگ ہے
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- آہنگ اسدؔ میں نہیں جز نغمۂ بیدل
- جوں قمری بسمل تپش آہنگ نکالوں
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگ
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی