آگے
33 Misre
- شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہ
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
- اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
- جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
- گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے
- رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
- کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے
- کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
- مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
- آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
- آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
- رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- اس رہ گزر میں جلوۂ گل آگے گرد تھا
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
- فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
- وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- تمہارے آئیو اے طرہ ہاۓ خم بہ خم آگے
- ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- ہوئے اس مہروش کے جلوۂ تمثال کے آگے
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- ہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند
- پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں
- آم کے آگے پیش جاوے خاک
- آم کے آگے نیشکر کیا ہے
- اس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات