آپ
48 Misre
- آپ نے مسنی الضر کہا ہے تو سہی
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- آپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
- حضرت چلے حرم کو اب آپ کا خدا ہے
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- آپ مسجد میں گدھا باندھتے ہیں
- جو گرہ آپ نہ کھولی اسے مشکل باندھا
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بد گمانی
- آپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
- ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
- آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
- آپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
- آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
- آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- نہ رکھ آپ سے تعلق مگر ایک بدگمانی
- اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
- دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
- ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
- کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
- اور داغ آپ کی غلامی کا
- آپ کی مدح اور میرا منھ
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
- جوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
- آج ہنستے آپ جو کھل کھل نہیں