آنکھیں
9 Misre
- اگر ڈھانپے تو آنکھیں ڈھانپ ہم تصویر عریاں ہیں
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- کی ہیں کس پانی سے یاں یعقوب نے آنکھیں سفید
- آنکھیں پتھرائی ہیں نامحسوس ہے تار نگاہ
- لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
- کھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
- کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں