آنکھوں
18 Misre
- آنکھوں میں انتظار سے جاں پر شتاب ہے
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- اسدؔ کھائے ہوئے سرمے نے آنکھوں میں بصارت کی
- کھینچتا ہوں اپنی آنکھوں میں سلائی نیل کی
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- رنگ نے آئنہ آنکھوں کے مقابل باندھا
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- مہ اختر فشاں کی بہر استقبال آنکھوں سے
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شام فراق
- دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- کبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
- مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیار