آفریں
12 Misre
- صدا ہے کوہ میں حشر آفریں اے غفلت اندیشاں
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریز بہائے خود بینی
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- خیال شوخی خوباں کو راحت آفریں پایا
- ہے ترحم آفریں آرایش بیداد یاں
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
- غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینی
- ہے ترحم آفریں آرائش بیداد یاں
- آفریں آب داریٔ صمصام
- یہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
- اے جہاں آفریں خداے کریم