آفتاب
20 Misre
- سیل بنائے مستی شبنم ہے آفتاب
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- ہر ایک داغ جگر آفتاب محشر ہو
- ہے رگ یاقوت عکس خط جام آفتاب
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- ہر بت خرشید طلعت آفتاب بام ہے
- ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہ آفتاب
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- ہر ایک ذرۂ عاشق ہے آفتاب پرست
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- جس نالہ سے شگاف پڑے آفتاب میں
- پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
- اے جہاں دار آفتاب آثار
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سے
- واں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- نہ آفتاب ولے آفتاب کا ہم چشم
- جن کی خاتم کا آفتاب نگیں