آسماں
26 Misre
- آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- عزیزاں ہے برنگ صفر جام آسماں خالی
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- یک آسماں ہے مرتبۂ پشت پا بلند
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- آسماں بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
- رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
- رہی نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لیے
- بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- اے شہنشاہ آسماں اورنگ
- کہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی
- اخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
- خود آسماں ہے مہا راؤ راجہ پر صدقے
- آسماں نے بچھا رکھا تھا دام
- آسماں کو کہا گیا کہ کہیں
- جن کی مسند کا آسماں گوشہ
- آسماں ہے گداے سایہ نشیں
- آسماں کے نام ہیں اے رشک مہر