آسا
24 Misre
- مژہ پیچک میں مہ کی سوزن آسا چیدنی جانے
- کہ شاخ آہواں دود چراغ آسا پریشاں ہے
- سایہ آسا ہوگیا ہے پایمال
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- شمع آسا چہ سر دعوی و کو پاے ثبات
- گرچہ ہے یک بیضۂ طاؤس آسا تنگ دل
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- کہ یاں ہر یک حباب آسا شکست آمادہ آتا ہے
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- سر شک بر زمیں افتادہ آسا
- ہوں سپند آسا وداع انجمن کی فکر میں
- شرار آسا زسنگ سرمہ یکسر بار جستن ہا
- شبنم آسا کو مجال سبحہ گردانی مجھے
- تحمل پیشۂ تمکین رہیے آئنہ آسا
- شمع آسا چہ سر دعویٰ و کو پاۓ ثبات
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- ہلال آسا تہی رہ گر کشادن ہائے دل چاہے
- شاخ گل جنبش میں ہے گہوارہ آسا ہر نفس
- زکات حسن دے اے جلوۂ بینش کہ مہر آسا
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- بیضہ آسا ننگ بال و پر ہے یہ کنج قفس