آزار
15 Misre
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- روزن کی طرح دید کا آزار رہ گیا
- تا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- طاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- حسرت لذت آزار رہی جاتی ہے
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- نہ کھڑے ہو جیے خوبان دل آزار کے پاس
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر
- تا نہ دے باد زمہریر آزار
- بے خبر دے بکف پاے مسافر آزار
- کہتے ہیں کہ اب وہ مردم آزار نہیں