آرزو
48 Misre
- مژہ فرش رہ و دل ناتواں و آرزو مضطر
- اسدؔ بہ نازکی طبع آرزو انصاف
- یارب کہ خار پیرہن آرزو نہ ہو
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- آرزو ہا خار خار چین پیشانی عبث
- شکست آرزو کے رنگ کی کرتا ہوں صیادی
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
- یک رگ خواب و سراسر جوش خون آرزو
- سر پر مرے وبال ہزار آرزو رہا
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- ہے خط عجز ماوتو اول درس آرزو
- نے سرد برگ آرزو نے رہ و رسم گفتگو
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- فغاں بے اختیاری و فریب آرزو خوردن
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ہزار قافلۂ آرزو بیاباں مرگ
- کیا سزا ہے میرے جرم آرزو تاویل کی
- زلف پری بہ سلسلۂ آرزو رسا
- اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو
- مژہ فرش رہ و دل ناتوان و آرزو مضطر
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- اگر آرزو رسا ہو پئے درد دل دوا ہو
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- حاصل الفت نہ دیکھا جز شکست آرزو
- چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو
- گداز آرزو ہا آبیار آرزو ہا ہے
- جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
- نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
- اسدؔ بہ نازکیٔ طبع آرزو انصاف
- مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
- مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
- اے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ
- گر شہادت آرزو ہے نشے میں گستاخ ہو
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- تا چند پست فطرتیٔ طبع آرزو
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- آرزو سے ہے شکست آرزو مطلب مجھے
- تگ و تاز آرزو ہا بہ فریب شادمانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- اگر آرزو رسا ہو پے درد دل دوا ہو
- ہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو
- ساغر کش خون آرزو یعنی دل
- وہ خود کہے کہ بتا تیری آرزو کیا ہے