آخر
60 Misre
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- اگی اک پنبۂ روزن سے ہی چشم سفید آخر
- الفت زر ہمہ نقصاں ہے کہ آخر قاروں
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- دہان زخم میں آخر ہوئی زباں پیدا
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- شعلہ آخر فال مقصود چراغ کشتہ ہے
- عیسیٰ آخر بکف آئینۂ تصویر آوے
- ضبط گریہ گہر آبلہ لایا آخر
- روشن ہوئی یہ بات دم نزع کہ آخر
- آخر کار گرفتار سر زلف ہوا
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- کریں گے کوہ کن کے حوصلے کا امتحان آخر
- آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
- آخر اس درد کی دوا کیا ہے
- آخر نوائے مرغ گرفتار بھی نہیں
- بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
- شعلہ آخر فال مقصود چراغ کشتہ ہے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- ہوا سکتے سے میں آئینۂ دست طبیب آخر
- ملیں گے منزل الفت میں ہم اور عندلیب آخر
- نیاز پر فشانی ہو گیا صبر و شکیب آخر
- ہوئی شام جوانی اے دل حسرت نصیب آخر
- کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر
- آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
- صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- لیا آئینہ نے حرز پر طوطی بچنگ آخر
- ہوا مہ کثرت سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
- ہوا ناسور چشم تعزیت چشم خدنگ آخر
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- نہیں ہے نغمے سے خالی خمیدن ہائے چنگ آخر
- آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
- ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- لیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ