آج
72 Misre
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- کھینچتا ہے آج نالے خارج از آہنگ دل
- اسدؔ ہے آج مژگان تماشا کی حنا بندی
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- پنجۂ مژگاں بخود بالیدنی رکھتا ہے آج
- ساقیا دے ایک ہی ساغر میں سب کو مے کہ آج
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- دیدہ خونبار ہے مدت سے ولے آج ندیم
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- آج تنخواہ شکستن ہے کلہ جبریل کی
- دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
- خراج بادشہ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج
- دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچیے
- موج مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
- آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا
- ساقی گری کی شرم کرو آج ورنہ ہم
- آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
- آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
- آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں
- دکھتے ہیں آج اس بت نازک بدن کے پاؤں
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- آج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
- شور جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
- آج رنگ رفتہ دور گردش ساغر ہوا
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- پنجۂ مژگاں بہ خود بالیدنی رکھتا ہے آج
- یہ جانا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- آج پھر اس کی روبکاری ہے
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
- آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
- تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
- سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
- چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
- دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- آج مجھ سا نہیں زمانے میں
- بس کہ فعال ما یرید ہے آج
- رام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہے
- آج یہ قدر دان معنی ہے
- آج جو دیدہ ور کرے درخواست
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیں
- جانتا ہوں کہ آج دنیا میں
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج
- یعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
- قارورہ مرا خون کبوتر ہے آج
- دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آج
- نیرنگ زمانہ فتنہ پرور ہے آج
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے
- آج بیداری میں ہے خواب زلیخا مجھ کو
- تاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی
- دوش کل کی رات اور امروز آج
- آج عالم اور ہے بازار کا
- پل پہ چل ہے آج دن اتوار کا
- پایا قادر نامے نے آج اختتام
- آج ہنستے آپ جو کھل کھل نہیں