آتی
27 Misre
- نواے طائران آشیاں گم کردہ آتی ہے
- آتی نہیں نیند اے شب تار
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- بوے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- یہ غزل اپنی مجھے جی سے پسند آتی ہے آپ
- ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلف مشکیں کی
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- بوئے یوسف مجھے گلزار سے آتی تھی اسدؔ
- کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ
- غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
- کوئی امید بر نہیں آتی
- کوئی صورت نظر نہیں آتی
- نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
- آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
- اب کسی بات پر نہیں آتی
- پر طبیعت ادھر نہیں آتی
- ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
- میری آواز گر نہیں آتی
- بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
- کچھ ہماری خبر نہیں آتی
- موت آتی ہے پر نہیں آتی
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیں