آتش
93 Misre
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- ہے مساس دست افسوس آتش انگیز تپش
- مگر آتش ہمارا کوکب اقبال چمکاوے
- باقلیم سخن ہے جلوۂ گرد سواد آتش
- کہ ہے دود چراغاں سے ہیولاے مداد آتش
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- بہ تقریب نگارش ہاے سطر شعلہ باد آتش
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- شرار سنگ بت بہر بناے اعتقاد آتش
- خار شمع آئنہ آتش میں جوہر ہو گیا
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- آتش رنگ رخ ہر گل کو بخشے ہے فروغ
- نقد ہے داغ دل اور آتش زبانی مفت ہے
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- برنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
- رنگ گل آتش کدہ ہے زیر بال عندلیب
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- نکالے کب نہال شمع بے تخم شرار آتش
- لگاوے خانۂ آئینہ میں روے نگار آتش
- نہ نکلے شمع کے پاسے نکالے گر نہ خار آتش
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- بلا گردان بے پروا خرامی ہاے یار آتش
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دوچار آتش
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- کہ شمع خانۂ دل آتش مے سے فروزاں کی
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- میں خار ہوں آتش میں چبھوں رنگ نکالوں
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- یاں نعل ہے بہ آتش رنگ حنا گرو
- حیرت کاغذ آتش زدہ ہے جلوۂ عمر
- دل ناسوختہ آتش کدۂ صد تب تھا
- یہ آتش ہمسایہ کہیں گھر نہ جلا دے
- میں رشک سے جوں آتش خاموش رہا گرم
- یاں ہے کہ صحبت خس آتش برار ہے
- شب دراز و آتش دل تیز یعنی مثل شمع
- زبس آتش نے فصل رنگ میں رنگ دگر پایا
- آتش مے سے بہار گرمیٔ بازار دوست
- ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
- سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
- آتش کدہ جاگیر سمندر نہ ہوا تھا
- آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
- بہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
- اے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی
- آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا
- خانمان عاشقاں دکان آتش باز ہے
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- آتش موئے دماغ شوق ہے تیرا تپاک
- جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی
- ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہ
- لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- شعلہ ہا نذر سمندر بلکہ آتش خانہ ہم
- گرمیٔ دولت ہوئی آتش زن نام نکو
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- مرے قدح میں ہے صہبائے آتش پنہاں
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- لگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش
- نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- ببال شعلۂ بیتاب ہے پروانہ زار آتش
- بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
- اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
- یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
- آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
- آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
- وحشت آتش دل سے شب تنہائی میں
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- ہے ننگ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی
- بیتابیٔ تجلیٔ آتش بجاں نہ پوچھ
- کس نے دیکھا نفس اہل وفا آتش خیز
- باقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت
- آتش و آب و باد و خاک نے لی
- بنے ہے شعلۂ آتش انیس پرۂ کاہ
- دام ہر کاغذ آتش زدہ طاؤس شکار
- نعل در آتش ہر ذرہ ہے تیغ کہسار
- آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال
- آتش گل پہ قند کا ہے قوام
- آگ کا آتش اور آذر نام ہے
- نعل در آتش اسی کا نام ہے