آب
77 Misre
- باغ بخوں تپیدن و آب روان اشک
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- بروے آب جو ہر موج نقش مسطر ہو
- سر شک چشم یار آب دم شمشیر ابرو ہے
- سعی عاشق ہے فروغ افزاے آب روے کار
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- شمشیر آبدار و نگہ آب دار تر
- خضر کو چشمۂ آب بقا سے تر جبیں پایا
- صدف سے آسیاے آب میں ہے دانہ گوہر کا
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- آب گردیدن روا لیکن چکیدن منع ہے
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- گر آب چشمۂ آئینہ دھووے عکس زنگی کا
- اٹھا یاں سے نہ میرا آب و دانہ
- ہمیشہ دیدۂ گریاں کو آب رفتہ در جو تھا
- مانند موج آب زبان بریدہ ہوں
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- اے خوشا گر آب تیغ ناز تیزابی کرے
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- زہر کچھ اور سہی آب بقا اور سہی
- چھڑکے ہے شبنم آئنۂ برگ گل پہ آب
- فتنۂ خوابیدہ کو آئینہ مشت آب تھا
- خانۂ عاشق مگر ساز صداے آب تھا
- زبس طوفان آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- نمدور آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- لب خشک صدف آب گہر سے تر نہیں ہوتا
- وہ نہا کر آب گل سے سایۂ گل کے تلے
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- کہ موج آب ہے ہر ایک چین پیشانی
- لب نگار میں آئینہ دیکھ آب حیات
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- آب ہوجاتے ہیں ننگ ہمت باطل سے مرد
- در آب آئنہ از جوش عکس گیسوے مشکیں
- مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
- ہر ذرہ مثل جوہر تیغ آب دار تھا
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگ گل پر آب
- ہوئی زنجیر موج آب کو فرصت روانی کی
- بھروں یک گوشۂ دامن گر آب ہفت دریا ہو
- نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آب تیغ نگاہ
- زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی
- ہوئی ہے آتش گل آب زندگانی شمع
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے
- حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگ گل
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- جلوۂ گل نے کیا تھا واں چراغاں آب جو
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- موج محیط آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں
- نمد در آب ہے اے سادہ پرکار اس بہانے میں
- اسدؔ جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا
- کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- بن گیا روئے آب پر کائی
- زہرہ گر ایسا ہی شام ہجر میں ہوتا ہے آب
- دامن تمثال آب آئنہ سے تر نہیں
- یاں آب و دانہ موسم گل میں حرام ہے
- زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
- آب و تاب انطباع کی پائی
- صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریں
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں
- آفریں آب داریٔ صمصام
- آتش و آب و باد و خاک نے لی
- مشقی نقش قدم نسخۂ آب حیواں
- مدتوں تک دیا ہے آب حیات
- نازش دودمان آب و ہوا
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ
- آب پانی بحر دریا نہر جو