آئے
60 Misre
- آئے ہیں پارہ ہائے جگر درمیان اشک
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- ساتھ حجاج کے اکثر کئی منزل آئے
- لو وہ برہم زن ہنگامۂ محفل آئے
- دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
- عکس تیرا ہی مگر تیرے مقابل آئے
- زیست ان کی ہے جو اس کوچے سے گھائل آئے
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- خوشا اقبال رنجوری عیادت کو تم آئے ہو
- وہ آئے یا نہ آئے پہ یاں انتظار ہے
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
- الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
- سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- تیرا ہی عکس رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
- یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے
- آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
- آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤں
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- وہ سحر مدعا طلبی میں نہ کام آئے
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے
- کچھ کہہ نہ سکوں پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
- آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں گو آئے
- ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
- ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
- دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- اچھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
- تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
- وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
- جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہے
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- صبح جو جائے اور آئے شام
- چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئے
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- آئے یہ گوے اور یہ میداں
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے
- دیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب