آئینے
20 Misre
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہوجاوے
- کہ مثل ذرہ ہاے خاک آئینے پر افشاں ہیں
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- غافلاں غش جان کر چھڑکے ہیں آب آئینے پر
- بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- ہے تماشا زشت رویوں کا عتاب آئینے پر
- گر کرے یوں امر نہی بو تراب آئینے پر
- رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر
- خط نوخیز کی آئینے میں دی کس نے آرایش
- آئینے پہ آئین گلستان ارم باندھ
- سفیدی آئینے کی پنبۂ روزن نہ ہو جاوے
- جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
- آئینے کے پایاب سے اتری ہیں سپاہیں
- پرافشاں جوہر آئینے میں مثل ذرہ روزن میں
- کیا بد گماں ہے مجھ سے کہ آئینے میں مرے
- بیضۂ قمری کے آئینے میں پنہاں صیقل
- مفت وا گستردنی ہے فرش خواب آئینے پر