آ
38 Misre
- آتا ہے آ وگرنہ یہ پا در رکاب ہے
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- آ اے بہار ناز کہ تیرے خرام سے
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
- پچ آ پڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھے
- اگر وہ سرو قد گرم خرام ناز آ جاوے
- ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
- کبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
- یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
- سبب کیا خواب میں آ کر تبسم ہائے پنہاں کا
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- کیا تعجب ہے جو اس کو دیکھ کر آ جائے رحم
- الٰہی یک قیامت خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- کہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- آ پہنچے ہیں تا سواد اقلیم عدم
- علی سے آ کے لڑے اور خطا کہیں اس کو
- تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم